Archive for مئی, 2012

بعض عورتیں مذہبی راہنماؤں کے پیچھے لٹھ لے کر اس لئےپڑی رہتی ہیں کہ ان عورتوں کو وہ پیغام اچھا نہیں لگتا جو یہ ان تک پہنچاتے ہیں- یعنی وہی shooting the messenger والی حماقت-

حالانکہ وہ لوگ تو بس اللہ کا پیغام ان خواتین تک پہنچاتے ہیں جو قرآن اور حدیث میں ہے-جسکو یہ خود بھولی ہوئ ہیں اور یاد کروایا جانا بھی پسند نہیں کرتیں-

سورہ احزاب میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

۵۳: نبیؐ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے-

۵۹:اے نبیؐ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکالیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے-

 ان دو آیتوں سے پتا چلتا ہے کہ عورتوں اور مردوں کو باہمی اخطلاط سے روکنا اور انکو ضرورت کے تحت باہر نکلنے پر اپنے چہرے اور جسم کو ڈھانپنے کا حکم اللہ تعالی کا ہے نا کہ ”ملاؤں” کا- اور قرآن کی کسی ایک آیت کا انکار بھی کفر ہے- یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کے آگے کسی کی پس و پیش اور چوں چراں نہیں چل سکتی-  ایک مسلمان کے لئےاسکا ہر حرف ،حرف آخر ہوتا ہے-

قرآن ہی سے ایک اور مثال عورت  و مرد کے درمیان فاصلے اور  عورت کےشرم و حیا اور منہ چھپانے کی-

 سورہ القصص:

۲۲-۲۵:اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پِلا رہے ہیں اور اُن سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔موسیٰ ؑ نے ان عورتوں سے پوچھا”تمہیں کیا پریشانی ہے؟“ اُنہوں نے کہا”ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پِلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہ نکال لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بُوڑھے آدمی ہیں۔“ یہ سُن کر موسیٰ ؑ نے اُن کے جانوروں کو پانی پِلا دیا، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا”پروردگار، جو خیر بھی تُو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں۔“ ﴿کچھ دیر نہ گزری تھی کہ﴾ اُن دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی اور کہنے لگی”میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔“

وہ دونوں بہنیں آدمیوں سے الگ کھڑی تھیں اور اپنے جانوروں کو روک رہی تھیں کیونکہ وہ انکے درمیان گھلنا ملنا نہیں چاہتی تھیں- اور انھوں نے وضاحت کی کہ یہ کام تو ایک مرد کے کرنے کا ہی ہے مگر ہمارے والد ایک بوڑھے آدمی ہیں-

پھر ایک عورت شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئ آئ-

”حضرت عمرؓ نےاس فقرے کی تشریح یہ کی ہے:

جاءتتمشی علی استحیاءقائلہ بثوبھا علی وجھہا لیست بسلفع من النساء دلاجہ ولاجہ خرجہ-

”وہ شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئ اپنا منہ گھونگھٹ سے چھپائے ہوئے آئ- ان بے باک عورتوں کی طرح درّانہ نہیں چلی آئ جو ہر طرف نکل جاتی اور ہر جگہ جا گھستی ہیں-”

اس مضمون کی متعدد روایات سعید بن منصور،اب جریر،ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے معتبر سندوں کے ساتھ حضرت عمر ؓ سے نقل کی ہیں- اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ کے عہد میں حیا داری کا اسلامی تصور، جو قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت سے ان بزرگوں نے سمجھا تھا، چہرےکو اجنبیوں کے سامنے کھولے پھرنے اور گھر سے باہر بے باکانہ چلت پھرت دکھانے کے قطعاً خلاف تھا-حضرت عمرؓ صاف الفاظ میں یہاں چہرہ ڈھانکنے کو حیا کی علامت اور اسے اجنبیوں کے سامنے کھولنے کو بے حیائ قرار دے رہے ہیں”-(تفہیم القرآن،جلد ۳ )

اب آتے ہیں اس طرف کہ کیا یہ عورت کے ساتھ ظلم ہے- نہیں ہر گز نہیں- بلکہ اس پر لطف و عنایت اور مہربانی ہے:

–  سورج کی شعائیں sun burn  اور کینسرکا باعث ہیں- گرمی میں جسم کو ڈھانپنا عین عقل مندی ہے، نا کہ کھولنا-

– گرمی کے موسم میں hay fever یعنی pollen allergy  زوروں پر ہوتا ہے اور یہ آنکھوں اور ناک کے ذریعے حملہ کرتا ہے- اب وہ عورت جو اول تو باہر ہی کم جائے گی اور جب جائے گی تو اپنے منہ ،ناک اور حتی کہ بعض دفعہ آنکھوں کو بھی ماسک پہنا کر جائے گی، کیا اس مرض سے حفاظت نہیں کر رہی انجانے میں؟ بہ نسبت اس عورت کے جو ہر روز باہر جاتی ہے اور وہ بھی اپنا منہ سر وغیرہ کھول کر-

–         جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو اسکا immune system بہت کمزور ہو جاتا ہے- اس وقت بھی چہرے کا ماسک( نقاب) اسکو بہت سے جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے-

اوریہ مرد کے لئے بھی رحمت ہے:

–          مرد کے لئےغض بصر بعض دفعہ بہت مشکل ہوتا ہے اگر عورت بہت حسین ہو- اور وہ ایک ہی نظر میں اسکے حسن کا گھائل ہو سکتا ہے- جبکہ عورت نقاب لگا کر اسکو بیمارئ دل سے بچا سکتی ہے-

–         مرد اپنی بیوی کو دوسری عورتوں سے موازنہ کرنے سے بچ جاتا ہے اور اپنی بیوی بری نہیں لگتی-

تو جس اللہ نے عورتوں کا جسمانی نظام بنایا اس نے اسکوhandle  کرنے کا طریقہ بھی بتا دیا-مگر برا ہو عورتوں کی احساس کمتری اور مردوں سے مقابلے اور موازنے کا کہ اپنے manual کے مطابق عمل کرنے کی بجائے مردوں کی مشینری اور انکے کتابچے پر عمل کرتی ہیں-

اس بے پردگی کی وجہ سے عورت کا کتنا حشر نشر  ہو رہا ہے اسکا اندازہ آپکو anorexia, bulimia, boob job, وغیرہ جیسی چیزوں سے ہوتا ہے- اس وقت عورت ایک sex object بنی ہوئ ہے اور اسکومردوں کی اس تلکیف دہ غلامی سے پردے کی چھاؤں ہی بچا سکتی ہے-[A Flap On My Face]

ان میں اتنی عقل نہیں کہ اپنے حقوق بھی اپنے عورت ہونے کی بنیاد پر مانگیں نا کہ مرد ہی بن جائیں-مغرب نے عورت کو جو حقوق دیئے وہ اسکے مرد بننے کے بعد دئے- انھوں نے عورت کی تکریم نہیں کی بلکہ مرد نما عورت کی کی- جو گھر سے باہر مردوں والے کام کرے اور حتی کہ مردوں کی طرح کے کپڑے پہن کر عورت نے اپنے احساس کمتری کا ثبوت بھی دیا- انھون نے ایک ماں بہن اور بیوی کے کردار کو نہیں سراہا بلکہ اس کردار کو ترک کرنے پر شاباشی دی [Mum’s The Word]- اس کی قصور وار عورت ہے- اس نے کیوں اپنا محاذ اپنا کردار چھوڑا-  ایک مسلمان عورت اپنے اسلامی حقوق کے لئے اپنے گھر کے مردوں سے کیوں نہیں لڑتی- بلکہ ان سے شکست کھا کر گھر سے باہر نکل جاتی ہے اور معاشرے کے اجنبی مردوں سے مزید اپنا استحصال کرواتی ہے- یعنی out of the frying pan into the fire

مغرب کی عورت نے بھی اسی طرح اہستہ آہستہ بے پردگی کی طرف قدم رکھا تھا جس طرج آج پاکستانی عورت کر رہی ہے- پہلے زمانے میں انکی aristocrat عورتیں بھی باہر نکلنے سے پہلے ہاتھوں میں دستانے اور چہرے پر جالی والا hat پہنتی تھیں- اور ٹانگیں ننگی کرنا ایک عار تھا-

وہ عورتیں حجاب کا مقصد نہیں سمجھتیں جو میک اپ کر کے اور خوب بناؤ سنگھار کر کے سر کو ڈھک لیتی ہیں- اور تنگ کپڑے اور جسم کے باقی حصوں کو ڈھکنے کی کوشش نہیں کرتیں- وہ حجاب کا مزاق اڑاتی ہیں-بس اس سے یہ ہے کہ انکو بال دکھانے کا گناہ نہیں ہوتا اور ہیئر ڈریسر کے پیسے بچتے ہیں- عورتوں کو بال دکھانے اور انکے سٹائیل بنانے نے بھی بڑی پسوڑی ڈالی ہوئ ہے-مغرب کی عورت اپنے بالوں سے mess around کر کر کہ گنجی ہوئ جا رہی ہے- اسلام نے عورت کو اپنے بال چھپانے کا حکم دے کر  اسکو آزاد کر دیا ہے الحمدللہ-

 اور ایسے ہی وہ  بہن بھی حجاب کا مقصد نہیں سمجھتی جوطعن کرتی ہےکہ عورت کو گنجا کر دو، ویسےیہ سب کہنے کی بات ہے جو عورت لپ سٹک کے بغیر باہر نا نکلے وہ گنجی ہو کر نکلے گی  باہر؟؟؟بندہ دعوی یا suggestion وہ کرے جس پر چیلنج کیئے جانے پر عمل بھی کر سکے-

یہ تو وہی بات ہوئ جو یہودی عورتیں کرتی ہیں- وہ اپنے سر کو گنجا کر کہ خوبصورت وگ لگا لیتی ہیں- کہ اللہ نے تو میرے بال چھپانے کو کہا ہے اور یہ تو میرے بال ہیں ہی نہیں- وہ بس خود کو ہی فول کر رہی ہیں اللہ کو نہیں- بس ایک نہیں ماننا تو اللہ کا حکم نہیں ماننا انکو- کیا اللہ کے ساتھ چکر چلا کر کوئ بچ سکتا ہے!!!

پہلے زمانے میں عورتیں چادر اوڑھتی تھیں جسکو اوڑھنے میں اتنا کم وقت لگتا ہے جتنا باہر جانے کے لئے جوتا پہننے میں- اور جن کے گھر کئ کئ دن چولھا نا جلے انکے پیٹ خراب ہونا محال ہے- اور جنگل کا دور ہونا کوئ مسئلہ نہیں ہوتا تھا-مگر آج کل کے لوگ اس زمانے کے طرز زندگی کا سوچنے میں بھی بری طرح ناکام ہیں- انکا وہی حال ہے”روٹی نہیں ملتی تو کیک کیوں نہیں کھاتے لوگ”

پردے کا مقصد ایک بڑی چادر سے پورا ہو جاتا ہے-برقع تو اسکی ماڈرن اورimproved شکل ہے- اور عورت ویسے بھی کوئ جسمانی بھاگ دوڑ یا سخت محنت کا کام کرنے نہیں جاتی باہر بس اپنی کسی ضرورت کو پورا کرنے ہی جاتی ہے- مسئلہ تو تب ہوتا ہے جب وہ مردوں والے کام کرنا چاہے- اشد ضرورت یعنی جنگی حالت یا ایمرجینسی میں پردے میں تخفیف کی اجازت بھی ہے-

عورت پر معاش کی ذمہ داری نہیں ہے اور یہ اسکا حق ہے کہ مرد اس کے لئے کما کر لائے- اسکے بدلے میں وہ اسکے گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی پرورش کرے گی- عورت کو اپنے شوہر کی کمائ میں تنگی ترشی سے گزارہ کرنا سیکھنا چاہئے کہ یہی قرآن کی تعلیمات ہیں- نا کہ زرا سی  مادی تکلیف پہنچی اور یہ نکل کھڑی ہوئ دو چار پیسے کمانے- قرآن میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ جب ازواج مطہراتؓ کو نفقے کی تنگی محسوس ہوئ تو اللہ نے ان سے کیا کہا-  انکے گھروں میں کئ کئ دن چولھا نہیں جلتا تھااور پھر بھی ان  میں سے کوئ بھی گھر سے باہر نہیں نکلی کہ چلو میں خود ہی اپنے شوہر کا ہاتھ بٹا لوں!!سوائے ایک دو کہ کوئ مثال نہیں ملتی صحابیاتؑ کے پیسہ کمانے کی- اور وہ بھی شرعی حدود کے اندر رہ کر-

عورت کی تعلیم عین اسلامی شعار ہے، مگر وہ اسلامی حدود کے اندر ہو اور ایسی تعلیم نا ہو کہ:

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو احباب نظر موت

یا پھر

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

ایک پڑھی لکھی زہین اور قابل ماں ،بیٹی ، بہن اور بیوی ہی معاشرے کی اچھی معمار ہو سکتی ہے-

اللہ کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں یہ ہم مخلوق کے پوچھنے کا کام نہیں-ہمارا کام اسکی اطاعت ہے اور بس- ایمان تو نام ہی اللہ کو مان کر اسکے آگے ہتھیار ڈالنے کا ہے- تو پھر اسکی تخلیق اور احکام میں اعتراض کیسا؟

 یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

سب سے زیادہ مشکل آزمائش نبیوں کی ہوئ اسکے بعد باقی کے نیک بندوں کی بتدریج، جسکا جیسا ایمان اسکی اتنی سخت آزمائش-حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں پھینکا گیا، ان کو اپنے بیٹے کو قربان کرنے کو کہا گیا۔ کیا انھوں نے اللہ سے کوئ شکوہ یا اعتراض کیا کہ یہ کہان کی منطق ہے کہ پہلے بیٹا نوازا اور پھر اسی کی قربانی مانگتے ہو- حضرت ایوبؑ کو سخت بیماری کے زریعے آزمایا گیا-

 مردوں پر قتال فرض ہے، کیا کوئ عورت اسکا اندازہ کر سکتی ہے کہ یہ کتنا مشکل کام ہے- اپنی جان کی بازی لگانا-میں نے تو کسی مرد کو روتے نہیں دیکھا کہ اللہ تو نے عورت کو کیوں نہیں فرض کی یہ بات-

 ان پر گھر والوں کے لئے کمانا فرض ہے، ان پر صبح شام مسجد میں جانا فرض ہے، گرمی ہو یا سردی- ان کو عورتوں کو ہر جگہ

خود لے کر جانا فرض ہے-مرد تو اس پر واویلا نہیں مچاتے-عورت کو تو ان سب باتوں سے معاف رکھا گیا ہے- ایک پردہ وہ بھی کبھی کبھی باہر جانے پر ہے جو اسکو ایسے لگتا ہے جیسے پتا نہیں کیا پہاڑ کے پتھر توڑنے کو کہہ دیا اسکو-

اس وقت ہمارا معاشرہ اسلامی اقدار سے کافی دور جا چکا ہے اور بہت سخت ضرورت ہے کہ ہم سب ایک اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے سر توڑ کوشش کریں- چاہے وہ ہمارا خاندانی نظام ہو یا معاشرتی،یا معاشی،یا سیاسی،یا ازدواجی- اور عورت مرد کو پھر سے اپنے اپنے دائروں میں واپس لانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے- مغرب میں بھی ایک  woman go back home کی مہم چلی تھِی- انکے  بھی چند لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے-

مگر کچھ نا عاقبت اندیش بڑی رعونت  اور تکبرسے کہتی ہیں کہ:

”ہمارے معاشرے میں  عورتیں زیادہ  مخلوط تعلیمی  اداروں میں جا رہی ہیں، زیادہ سے زیادہ گاڑی چلا رہی ہیں، زیادہ سے زیادہ شیمپو کے اشتہاروں میں جادو بھرے بال اڑا رہی ہیں، زیادہ سے زیادہ ڈیٹنگ کر رہی ہیں –کیاجدید طرز زندگی کو تسلیم کئے بغیر آُپ انکو اپنے خدائ فتووں سے روک سکتے ہیں؟”

 نہیں ہم نہیں روک سکتے کیونکہ ہمارا کام تو بس حق بات پہنچا دینا ہے- روکنا نا روکنا تو اللہ کے اختیار میں ہوتا ہے-مگر یہ بھی خوب یاد رکھو کہ حدیث کے مطابق جہنم میں بھی عورتیں ہی زیادہ سے زیادہ دیکھی گئ تھیں!!! اپنی اس  کثرت گناہ پر اتراؤ مت بلکہ ڈرو!!!

 إِنَّ فِي ذَ‌لِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ

 بے شک اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے

  سورة النور

Advertisements

Read Full Post »