Archive for اپریل, 2013

انکار

شاہنواز فاروقی

کالم | April 13, 2013

 

ایک مسلمان کی زندگی میں انکار کی اہمیت اقرار سے کہیں زیادہ ہے۔ کلمۂ طیبہ مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے، اور یہ باطل کے انکار سے شروع ہوتا ہے۔ اور جب یہ اعلان پوری کائنات اور انسان کے پورے وجود میں گونج جاتا ہے کہ ’’نہیں ہے کوئی الہٰ‘‘ تو اس کے بعد کلمہ طیبۂ کا اثباتی یا ایجابی حصہ سامنے آتا ہے جو کہتا ہے کہ ’’صرف اللہ ہی الہٰ ہے‘‘۔
کلمہ طیبہ کائنات کا سب سے بڑا ’’امرِ واقع‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق، مالک اور رازق ہے۔ وہی عبادت کے لائق ہے، وہی قادرِ مطلق ہے، اسی کے ہونے سے زندگی اور کائنات میں معنی ہیں، اسی کی وجہ سے زندگی مقصد کے تصور سے ہمکنار ہے۔ چنانچہ حکم بھی اسی کا ہے اور اطاعت بھی اسی کی روا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اس سے بڑا جھوٹ کوئی ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہٰ کہا جائے۔ لیکن چونکہ انسانی تاریخ حق وباطل کی تاریخ ہے اور باطل کی سرشت یہ ہے کہ وہ صرف اپنے ’’ہونے‘‘ پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ وہ رفتہ رفتہ خود کو الہٰ بنا لیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے باطل کے انکار کو اپنے اقرار پر فوقیت دی ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب تک باطل کا مکمل انکار نہ کردیا جائے حق کے اثبات کا کوئی مفہوم ہی نہیں۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ معاشرے یا دنیا میں باطل بھی موجود ہو اور خود کو الہٰ کہلوا رہا ہو، اور خدا کا تصور بھی موجود ہو اور لوگ خدا کی بھی عبادت کررہے ہوں۔ یہ حق وباطل کی متوازی موجودگی کی صورت ہے اور اسلام کے نزدیک یہ صورتِ حال ناقابلِ قبول ہے۔ اس لیے کہ خدا تو صرف اللہ ہی ہے، چنانچہ کلمہ طیبہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ انسانوں سے کہہ رہا ہے کہ جب تک تم تمام جھوٹے خدائوں اور ان کی خدائی کا انکار نہیں کرو گے اُس وقت تک میرے اوپر الہٰ کی حیثیت سے ایمان لانے کا حق ادا نہیں کرسکتے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو باطل کا انکار ہی اصل میں حق کا اقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت کی تاریخ میں ہر نبی نے باطل کے انکار سے کارِ نبوت کا آغاز کیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اگر صرف حق کی تبلیغ کرتے اور نمرود کی جھوٹی خدائی کا انکار نہ کرتے تو شہادتِ حق کا فرض ادا نہیں ہوسکتا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اگر صرف حق کا اثبات کرتے اور فرعون کی فرعونیت پر ضرب نہ لگاتے تو کارِنبوت کی تکمیل نہ ہو پاتی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کارِنبوت میں ایک ایسا مرحلہ آیا کہ مشرکینِ مکہ نے آپؐ کے سامنے تجویز پیش کی کہ ہم آپ کے خدا پر ایمان لے آتے ہیں اور آپ ہمارے خدائوں کو تسلیم کرلیں۔ لیکن یہ تجویز ایک لمحے کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی تھی چنانچہ رسول اکرمؐ نے اسے سنتے ہی مسترد کر دیا۔ لیکن اس تجویز سے باطل کی یہ دائمی آرزو پوری طرح نمایاں ہوکر سامنے آگئی کہ وہ حق کا یکسر منکر نہیں۔ اگر حق اسے اپنے مساوی حقیقت مان لے تو وہ حق کے ساتھ پُر امن بقائے باہمی کی صورت پر آمادہ ہوسکتا ہے خواہ ’’حکمت عملی‘‘ کے طور پرس ہی۔ لیکن باطل کے سلسلے میں حق کی پوزیشن واضح ہے اور وہ یہ کہ حق باطل کی مکمل تردید کرتا ہے اور حکمت عملی کے طور پر بھی وہ باطل کو الہٰ تسلیم نہیں کرسکتا۔ اسی لیے حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا ہے کہ اہلِ ایمان کے لیے صرف حق کا شعور کافی نہیں، ان کے لیے باطل کا شعور بھی ضروری ہے۔ خود حضرت عمرؓ کو فاروق کا لقب اس لیے عطا کیا گیا کہ آپ حق وباطل کے فرق کو سب سے زیادہ پہچاننے والے تھے اور باطل خواہ کسی بھی صورت میں آئے، آپ پر اس کا باطل ہونا عیاں ہوجاتا تھا۔
امام عزالیؒ کے زمانے میں یونانی فکر کا اصل چیلنج یہ تھا کہ مسلم فکر میں باطل حق کے ساتھ آمیز ہورہا تھا اور حق کے ساتھ ایک متوازی حقیقت بن کر سامنے آرہا تھا، چنانچہ امام غزالیؒ نے صرف یہی نہیں بتایا کہ حق کیا ہے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ باطل کیا ہے۔ غزالی کے فکری جہاد نے باطل کا بیج مار دیا اور غزالی اپنے زمانے میں باطل کا انکار کرنے والی سب سے بڑی شخصیت بن کر ابھرے۔ غزالی یہ کام نہ کرتے تو پہلے مرحلے میں حق وباطل باہم آمیز ہوجاتے اور ان کا فرق مٹ جاتا، اور اگلے مرحلے میں باطل حق کو اس کے مرتبے سے گرا کر خود اس کے منصب پر قابض ہوجاتا اور مسلم فکر کا رخ بدل کر رہ جاتا۔ عصر حاضر میں یہی کام مولانا مودودیؒ نے فکری اور عملی دونوں سطحوں پر کیا۔ مولانا مودودیؒ کے عہد میںعلماء کی کمی نہیںتھی، مگر علماء کی فکر کا نقص یہ تھا کہ وہ یہ تو بتاتی تھی کہ حق کیا ہے، مگر یہ نہیں بتاتی تھی کہ باطل کیا ہے اور اس کے انکار کی بنیاد کا ہے؟ علماء کے تصورِ حق میں بھی ایک کمی تھی اور وہ یہ کہ وہ حق کو عقائد، عبادات اور اخلاق تک محدود کرکے رہ گئے تھے اور انہوں نے اعلان کیے بغیر یہ تسلیم کرلیا تھا کہ ریاست، سیاست اور معیشت میں بہرحال باطل ہی کا سکہ چلے گا۔ علماء کی فکر میں یہ کمی اس لیے تھی کہ وہ عصر حاضر میں باطل کے تصور اور باطل کے سلسلے میں حق کی ذمہ داریوں سے غافل ہوگئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عصر حاضر میں مولانا باطل کے انکار اور اس انکار کے نتیجے میں حق پر اصرار کی سب سے بڑی علامت ہیں۔

حق وباطل کے معرکے کا تعلق صرف ظاہر سے نہیں۔ انسان کے باطن میں بھی حق وباطل کا معرکہ برپا ہے اور اس معرکے میں بھی باطل کا انکار اہلِ ایمان کی سب سے بڑی متاع ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس دائرے میں باطل کے انکار ہی پر انسان کے سارے روحانی ارتقاء کا مدار ہے۔ اس دائرے میں نفسِ امارہ باطل کی علامت ہے اور انسانوں کی عظیم اکثریت لاشعوری طور پر نفسِ امارہ کو اپنا خدا بنالیتی ہے اور اس کو پوجتی رہتی ہے۔ لیکن جب انسان نفسِ امارہ کی تاریکی کا شعور حاصل کرتا ہے اور اس شعور کے ذریعے نفسِ امارہ کی مزاحمت شروع کرتا ہے تو نفسِ امارہ سے نفسِ لوامہ بن کر نمودار ہوتا ہے۔ انسان نفسِ امارہ کی مزاحمت نہ کرے تو نفسِ لوامہ کا ظہور ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ نفسِ لوامہ برائی پر ملامت کرنے والا نفس ہے۔ اسے ضمیر بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ نفس کا وہ مقام ہے جس میں نیکی اور بدی کی تمیز تو پیدا ہوجاتی ہے مگر انسان کے باطنی تضادات باقی رہتے ہیں۔ انسان نفسِ لوامہ کی مزاحمت کرتا ہے تو نفسِ لوامہ نفسِ مطمئنہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ نفس مطمئنہ نفس کا وہ مقام ہے جہاں تمام باطنی تضادات ختم ہوجاتے ہیں اور انسان کا نفس اصول ِواحد کے تابع ہوجاتا ہے۔ نفسِ مطمئنہ باطنی ارتقاء کی آخری منزل نہیں۔ نفس کا تزکیہ جاری رہتا ہے لیکن باطنی ارتقا بہرحال مزاحمت کا حاصل ہوتا ہے۔ بعض لوگ نفس کی مزاحمت کو نفس کا انکار سمجھتے ہیں، لیکن نفس کی مزاحمت نفس کا انکار نہیں بلکہ اس کا مقصد نفس کو اصولِ حق کے تابع کرنا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تزکیۂ نفس کا مطلب نفس کے کسی فطری تقاضے کو دبانا، کچلنا یا اس کی موجودگی سے انکار کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نفس کے تمام تقاضے اور مطالبے اصولِ حق کی بالادستی کو تسلیم کرلیں اور انسان بالآخر راضی بہ رضا ہو جائے۔
اسلام میں شہادت کا تصور انکار کی بلند ترین سطح ہے۔ اسلام خود زندگی کو بڑی نعمت قرار دیتا ہے اور انسان کو ہدایت کرتا ہے کہ زندگی کا تحفظ کرو۔ لیکن اسلام ہی کی تعلیم یہ ہے کہ اللہ کی محبت زندگی کی محبت سے بھی زیادہ بڑی قدر ہے۔ یہاں تک کہ اسلام کہتا ہے کہ جب اللہ کے دین کی بالادستی کا سوال سامنے آئے اور اس کی قیمت جان ہو تو زندگی کا تحفظ خود عیب ہے اور زندگی کو اللہ کے دین پر نثار کردینا سب سے بڑا ہنر بلکہ سب سے بڑی سعادت ہے۔
ہماری تہذیب میں انکار کی روایت نے ادب کے دائرے میں بھی اپنا اظہار کیا ہے گو اس کا اسلوب بہت مختلف ہے۔ سلیم احمد نے اپنے مضمون ’’اردو شاعری میں جوروجفا کی روایت‘‘ میں لکھا ہے کہ ہماری غزل کا محبوب اپنے عاشق پر جو ظلم وستم کرتا نظر آتا ہے اس کا سبب محبوب کی سنگ دلی یا سفاکی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ محبوب ایسا کرکے عاشق کی آتشِ شوق کو بھڑ کاتا، اس کی محبت کو بڑھاتا اور اس کی شخصیت کے ارتقاء کا ذریعہ بنتا ہے یا بننا چاہتا ہے۔ فراقؔ کا ایک شعر ہے   ؎
کہاں ہر ایک سے بارِ نشاط اٹھتا ہے
بلائیں یہ بھی محبت کے سر گئی ہوں گی
نشاط کا بار اٹھانا غم کا بوجھ اٹھانے سے بہت زیادہ مشکل ہے لیکن محبت انسان کو یہ بار بھی اٹھانے کے قابل بنادیتی ہے۔ جوشؔ کی شاعری میں سچے جذبے کا اظہار کم کم ملتا ہے، مگر جوشؔ نے جو سچے شعر کہے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے   ؎
عشق میں کہتے ہو حیران ہوئے جاتے ہو
یہ نہیں کہتے کہ انسان ہوئے جاتے ہو

Read Full Post »

السلام علیکم

مجھے مشورہ دیا گیا ہے کہ چاہے خود لکھو چاہے دوسروں کا لکھا ہوا شئر کرو ، مگر کرو اپنے بلاگ پر- نا کے فیس بک یا گوگل پلس پر- تاکہ محفوظ رہے اور بوقت ضرورت کام آئے-

تو ان لوگوں سے معزرت کے ساتھ جنکو دوسروں کا لکھا ہوا کاپی پیسٹ پڑھنا برا لگتا ہے-مجھے بس کمنٹ کرنے آتے ہیں اور وہ میں کرتی رہوں گی ان شاءللہ- جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں

شاہنواز، شاہنواز کردی نی میں آپے شاہنواز ہوئ

🙂

زیادہ تر شاہنواز فاروقی صاحب کے مضامین  ہی ہوں گے- پہلا مضمون حاضر ہے- انکے پاس علم بھی ہے اور بات کہنے کا طریقہ بھی، اور میں ان سے بہت کچھ سیکھ رہی ہوں الحمدللہ-

 

شادی — شاہنواز فاروقی

انسان تہذیب کے زوال کا ایک پہلو یہ ہے کہ شادی کا تصور اپنی اصل میں الہٰیاتی اور کائناتی سطح اور مفہوم کا حامل تھا مگر ہماری دنیا میں اب شادی ایک سماجی ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ بلکہ مغربی دنیا میں تو شادی کی بے توقیری اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہاں شادی طلاق حاصل کرنے کا ایک بہانہ بن گئی ہے۔

اسلامی تہذیب میں بعض اکابر صوفیاء باالخصوص شیخ محی الدین ابن عربیؒ نے شادی کو الہٰیاتی اور کائناتی سطح پر دیکھا اور بیان کیا ہے۔ شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں۔

’’کسی چیز سے ایسی کسی بھی شے کا وجود میں آنا جو پہلے سے موجود نہ تھی شادی کی صفت ہے۔ دنیا میں کوئی عمل بھی ایسا نہیں ہے جو اپنی حقیقت کے مطابق اور اپنے طریقے سے کسی چیز کو وجود نہ بخشے۔ چنانچہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شادی ہر چیز کی اصل ہے۔ شادی جامعیت، کمال اور ترجیح کا مظہر ہے۔‘‘
ابن عربی ایک اور جگہ فرماتے ہیں۔

کی حیثیت ایک باپ کی سی ہے اور سامع کی حیثیت ماں کی اور مقرر کی گفتگو دراصل شادی کے ہم معنی ہے۔ گفتگو سے سامع جس تفہیم تک پہنچتا ہے وہ گویا بیٹے کی طرح ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہر باپ بالادست ہے کیونکہ وہ اثر انداز ہوتا ہے اور ہر ماں زیردست ہے کیونکہ وہ اثر قبول کرتی ہے اور دونوں کے درمیان تعلق کی یہ صورت شادی ہے اور اس شادی کا یہ نتیجہ اولاد ہے۔ ‘‘
شیخ محی الدین ابن عربیؒ نے ایک اور مقام پر لکھا ہے۔
’’کائناتی روح عقل اوّل کی بیوی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ظاہر کرنے کے لیے دونوں کو یکجا کیا تو کائناتی روح نے جس بچے کو جنم دیا اُسے فطرت کہتے ہیں۔‘‘

ابن عربی کا یہ تناظر صرف انہی تک محدود نہیں۔ مولانا روم نے ایک جگہ فرمایا ہے۔

’’عقل کے نزدیک آسمان مرد اور زمین عورت ہے۔ آسمان سے جو کچھ آتا ہے زمین اس کی آبیاری کرتی ہے۔‘‘

اسلامی فکر کے دائرے میں مرد اور عورت کے تعلق کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ مرد اللہ تعالیٰ کی ذات اور عورت اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کی مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کے وجودمیں ذات اور صفات کے درمیان جدائی یا علیحدگی نہیں ہے۔ لیکن مرتبۂ ظہور میں ذات اور صفت مرد اور عورت کی صورت میں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے ہیں۔ چنانچہ اسلام میں شادی کے ادارے کی اہمیت اور معنویت یہ ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول اکرمؐ کی سنت کے مطابق ذات اور صفت کا اتصال اس طرح ممکن ہوجاتا ہے کہ وہ ایک اکائی یا وحدت بن جاتے ہیں۔ ان کی یہ وحدت الہٰیاتی اور کائناتی مفہوم کی حامل ہوتی ہے۔ مرد اور عورت کے اس تعلق کو ایک اور حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے۔ حضرت آدمؑ جنت میں تھے اور تمام نعمتیں ان کو میّسر تھیں مگر اس کے باوجود وہ اداس رہتے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی رفاقت اور تسکین کے لیے ان کی پسلی سے اماںّ حوّا کو پیدا کیا۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو عورت مرد کی ذات کا حصہ ہے اور ان کے درمیان وہی تعلق ہے جو کُل اور جز کے درمیان ہوتا ہے۔ مرد عورت کی محبت محسوس کرتا ہے تو یہ کُل سے جز کی محبت ہوتی ہے اور عورت مرد کی محبت محسوس کرتی ہے تو جز کی کُل سے محبت ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ شادی کُل کو جز سے ملانے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں مرد اور عورت کا تعلق حریفوں کا تعلق ہوہی نہیں سکتا۔ یہ حلیفوں کا تعلق ہے ایسے حلیفوں کا تعلق جو مرتبۂ ظہور میں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں اور شادی ان کے ہجر کو وصال میں بدل دیتی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ نکاح کا بامحاورہ ترجمہ کیا جائے تو وہ وصال اور وجود کے دو حصوں کے اتصال کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ ہماری زبان میں شادی کا مفہوم مسرت ہے اور یہ مسرت اس بات کی ہے کہ ذات اور صفت باہم مل رہے ہیں۔ کل اور جز کا ملن ہورہا ہے اور زندگی اس مفہوم اور اس حسن وجمال کی حامل ہورہی ہے جو خدا کو مطلوب ہے۔ یہ ایک افسوس ناک بات ہے کہ فی زمانہ مسلمان بھی اس بات پر غور نہیں کرتے کہ طلاق اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ ترین چیزوں میں سے ایک کیوں ہے؟ بدقسمتی سے ہم طلاق کو سماجی، معاشی یا زیادہ سے زیادہ نفسیاتی حوالوں سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ طلاق کی اصل ہولناکی یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ذات اور صفت میں جدائی ہورہی ہوتی ہے۔ کُل، جز سے بچھڑ رہا ہوتا ہے۔ آسمان زمین سے جدا ہورہا ہوتا ہے۔ دو کائناتیں ایک دوسرے سے الگ ہورہی ہوتی ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ طلاق وجود، زندگی اور کائنات کی ہم آہنگی میں انتشار کی آندھی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔

بلاشبہ شادی کے سلسلے میں مسلمانوں کا شعور باقی مذاہب کے ماننے والوں کی نسبت بہت بہتر ہے۔ لیکن مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ نکاح کرتے ہیں اور ان کے نکاح میں خطبہ نکاح بھی پڑھا جاتا ہے لیکن اکثر لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اس خطبہ نکاح میں کیا کہا گیا ہے اور اس کا مفہوم کیا ہے…؟ مختصر سے خطبہ نکاح میں اہل ایمان کو تین بار اللہ تعالیٰ سے ڈرایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اسے ایک نفس واحد سے وجود بخشا گیا اور نفس واحد سے اس کا جوڑا تخلیق کیا اور اس جوڑے سے تمام مرد اور عورت پیدا فرمائے۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے ایک جگہ اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کا ذکر کیا گیا ہے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کی نگہبانی کی نشاندہی کی گئی ہے اور تیسری جگہ اللہ کے ڈر کو ایمان کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے معانی یہ ہیں کہ شادی اور اس کا برقرار رہنا تخلیق کا تقاضا بھی ہے۔ اللہ کی نگہبانی کا تقاضا بھی ہے اور ایمان کا تقاضا بھی ہے۔ خطبہ نکاح کا ایک مفہوم یہ ہے کہ شادی کے ذریعے اصول کثرت کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔

قرآن مجید میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ لیکن مرد اور عورت شادی کے ذریعے ہی ایک دوسرے کا لباس بنتے ہیں۔ لباس کی مثال حسّی یعنی Sensuous اور جمالیاتی ہے۔ اس کے معانی یہ ہیں کہ قرآن شوہر اور بیوی کے تعلق کو صرف روحانی اور کائناتی معنی میں بیان نہیں کرتا بلکہ وہ انہیں حسّی اور جمالیاتی سطح پر بھی بیان کرتا ہے۔ تعلق کی حسّی سطح اصل میں جسمانی سطح ہے اور شادی کے ادارے کی اہمیت، معنویت قدروقیمت اور عظمت یہ ہے کہ وہ انسان کی ’’جسمانیت‘‘ کو بھی ’’روحانیت‘‘ بنا دیتا ہے۔ جدید اردو غزل میں اس پہلو کو سلیم احمد نے جس طرح سمجھا اور بیان کیاہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کے کچھ اشعار ملاخطہ کیجیے۔

بدن میں روح کا در پھوٹتا ہے
نہیں ہوتی محبت بالا بالا
یہ اکھوا تہہ کے اندر پھوٹتا ہے
٭…٭…٭
زمانہ، نوکری، گھر، فکردنیا
یہ رنگینی کا افسانہ نہیں ہے
تجھے چاہا ہے پورے جسم وجاں سے
محبت کا الگ خانہ نہیں ہے
عجب نسبت ہے باہم جان وتن کی
بجا ہے روح کا پھل ہے محبت
یہ پھل پکتا ہے گرمی سے بدن کی
٭…٭…٭
بدن کی آگ کو کہتے ہیں لوگ جھوٹی آگ
اس آگ نے مرے دل کو مگر گداز کیا

احادیث مبارکہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو شادی کے کچھ اور پہلو آشکار ہوکر سامنے آتے ہیں۔ رسول اکرمؐ کی ایک حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ مجھے دنیا میں تین چیزیں مرغوب ہیں۔ عورت، خوشبو اور نماز۔ علامہ کا شانی نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حدیث میں نماز کا ذکر سب سے آخر میں ہوا ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کا تعلق اور خوشبو نماز کو بہترین بنانے میں مددگار ہے۔ ایک حدیث شریف میں رسول اللہؐ نے فرمایا ہے کہ نکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت پر عمل نہیں کرتا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ شادی کرنے والا نصف دین کو پالیتا ہے۔ 

ایک حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ اسلام کے دائرے میں تعمیر ہونے والی عمارتوں میں اللہ کو سب سے زیادہ محبت شادی کی عمارت سے ہے۔ ایک حدیث شریف میں آپؐ نے فرمایا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے اسلام کے بعد ایک ایسی مسلم بیوی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے کہ شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کردے۔ شوہر سے حکم دے تو وہ اطاعت کرے اور جب شوہر اس کے پاس نہ ہو تو وہ اپنی اور اپنے شوہر کی ملک کی حفاظت کرے۔

امام غزالیؒ نے شادی کے کئی بڑے فائدے بیان کیے ہیں۔ ان کے نزدیک شادی کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسانی نسل کا تسلسل برقرار رہتا ہے اور یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ شادی کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے دین کی حفاظت ہوتی ہے۔ جنسی جبلت کی تسکین جائز طریقے سے ہوجاتی ہے تو انسان حرام کھانے سے بچ جاتاہے۔ شادی کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ یہ جسمانی بھوک کو محدود کر دیتی ہے یا اسے حد میں رکھتی ہے۔ شادی کا چوتھا فائدہ یہ ہے کہ یہ زوجین کے لیے نفسیاتی جذباتی اور احساساتی تسکین کا ذریعہ ہے۔ شادی کا پانچواں فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے گھر کی دیکھ بھال کا اہتمام ہوجاتا ہے اور بچوں کی مناسب تعلیم وتربیت کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضور اکرمؐ جب وحی کے بار سے تھک جاتے تھے تو آپ ؐ حضرت عائشہؓ کا ہاتھ پکڑتے اور فرماتے ’’عائشہؓ مجھ سے بات کرو۔‘‘ اس عمل کے ذریعے آپؐ فرحت حاصل کرتے اور اپنی توانائی بحال فرماتے تھے۔

ہماری مذہبی روایت بتاتی ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ یہ بات درست ہے مگر یہ آدھی بات ہے ۔ پوری بات یہ ہے کہ آسمان پر صرف جوڑے نہیں بنتے بلکہ آسمان پر شادیوں کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور ان میں اہل آسمان شریک ہوتے ہیں۔ بعد میں شادیاں زمین پر منعقد ہوتی ہیں۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے چیزوں کے عدم سے وجود میں آنے کے عمل کو پہلی شادی کی مثال قرار دیتے ہوئے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اس عمل میں اسماء الحسنیٰ کی نوعیت شادی میں شریک مہمانوں کی سی ہے۔ جو اس بات پر مسرور ہوتے ہیں کہ اگر شادی کا عمل نہ ہوتا تو ان کے خصائص کبھی بھی کائنات میں ظاہر نہ ہوتے اور وہ ایک پوشیدہ خزانہ بن کر رہ جاتے-

Read Full Post »